6 فروری 2014 - 20:30
مشرف کی پیشی نہ گرفتاری، مگر ’روٹ لگا رہا‘

سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے کہا ہے کہ اگر ملزم عدالت میں پیش ہوجاتے اور عدالت سے استدعا کرتے کہ عدالت کی تشکیل اور اس کے دائرۂ سماعت سے متعلق دائر درخواستوں پر فیصلہ ہونے تک اُن پر فرد جُرم عائد نہ کی جائے تو عدالت اس پر غور کرسکتی تھی۔

ابنا: خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ نہ تو پرویز مشرف اور نہ ہی اُن کے ضامن عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے کہا کہ پرویز مشرف عدالتی فیصلے کا احترام نہیں کررہے اور وہ عدالت میں پیش نہ ہونے کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔ پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ وہ 18 فروری کو پرویز مشرف کو عدالت میں پیش کردیں گے۔ پہلے تصدیق کرلیا کریں کہ آیا پرویز مشرف عدالت میں پیش ہو رہے ہیں یا نہیں پھر اس کے بعد روٹ لگایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ گیارہ سو سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں جو کہ سرکاری خزانے پر بوجھ ہے۔ ملزم پرویز مشرف کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر چیف پراسیکیوٹر نے کمرہ عدالت کے باہر پولیس افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے وہ تصدیق کرلیا کریں کہ آیا پرویز مشرف عدالت میں پیش ہو رہے ہیں یا نہیں پھر اس کے بعد روٹ لگایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ گیارہ سو سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں جو کہ سرکاری خزانے پر بوجھ ہے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد پولیس نے پرویز مشرف کی خصوصی عدالت میں متوقع پیشی کے پیشِ نظر موقع پر دو روٹ لگائے تھے جن پر گیارہ سو سے زیادہ اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ عدالت ملزم پرویز مشرف کو حاضری سے مسثنیٰ قرار دینے سے متعلق فیصلہ پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق چار بجے کے قریب سُنائے گی۔ اس سے قبل آج بھی سابق صدر پیش نہیں ہوئے جبکہ ان کے وکلا نے غداری کے مقدمے کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کی تشکیل اور ججز کے تعصب پر مبنی رویے سے متعلق دلائل دیے۔ آج کی سماعت کے موقعے پر پرویز مشرف کے وکلا کی جانب سے ان کی حاضری کے استثنا کی درخواست دی گئی۔ جنرل مشرف کے وکلا نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ تمام درخواستوں پر فیصلہ سنانے تک کوئی حکم جاری نہ کرے۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جولائی 2009 کو دیے گئے فیصلے میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف کسی کارروائی کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے میں صرف تین نومبر کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔ پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بہت سے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتی ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ان قدامات کے کرنے والوں کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے۔ انور منصور نے یہ بھی کہا کہ موجودہ بنچ جو سماعت کر رہا ہے اس میں موجود ججوں سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ 31 جولائی کے فیصلے سے متاثر ہیں۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ انہیں اس بنچ سے انصاف ملنے کی امید نہیں ہے اور نہ ہی انہیں امید ہے کہ اس بینچ میں انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے۔ جسٹس فیصل عرب نے انور منصور سے کہا کہ اگر آپ کی بات مان بھی لی جائے کہ جج 31 جولائی کے فیصلے سے متاثر ہوئے ہیں اور ہم میں سے کوئی اس مقدمے کی سماعت سے ہٹ بھی جائے تو بھی یہ مقدمہ اپنی جگہ موجود رہے گا۔ انور منصور نے مزید کہا کہ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی موجودہ حکومت کے سربراہ اور ان کے موکل کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے عمل میں لائی گئی ہے جس کا واضح ثبوت ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس مقدمے کی سماعت کے قیام کے لیے حکومت کو جو نام بھیجے تھے، حکومت نے سوچے سمجھے بغیر ججوں کے اس بینچ کے لیے تقرر کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا۔ انور منصور کا کہنا تھا کہ ان ناموں میں ان ججوں کے نام شامل کیے گئے ہیں جو ان کے خیال میں مشرف کے خلاف یہ مقدمہ سننے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ مقدمے کی سماعت کے آغاز پر کیپٹن ریٹائرڈ الیاس نے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کی۔

.......

/169